صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر سعد بن أبي وقاص الزهري رضوان الله عليه وقد فعل- باب: - ذکر سعد بن ابی وقاص زہری رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، كَانَتْ تُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِِلَى جَنْبِهِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَيْتَ رَجُلا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ ، إِِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلاحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات دیر تک جاگتے رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں وہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش میرے اصحاب میں سے کوئی صالح شخص آج رات میری حفاظت کرتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ میں نے ہتھیار کی آواز سنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کون ہے۔ اس نے جواب دیا: سعد بن مالک۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آیا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیند کے دوران خراٹے سنے (یعنی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرسکون نیند سو گئے)