صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر ملاعبة المصطفى صلى الله عليه وسلم للحسين بن علي بن أبي طالب رضوان الله عليهما- باب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے ساتھ ملاعبت
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْلَعُ لِسَانَهُ لِلْحُسَيْنِ ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَةَ لِسَانِهِ ، فَيَهَشُّ إِِلَيْهِ " ، فَقَالَ لَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ : أَلا أَرَاهُ يَصْنَعُ هَذَا بِهَذَا ، فَوَاللَّهِ إِِنَّهُ لَيَكُونُ لِيَ الْوَلَدُ قَدْ خَرَجَ وَجْهُهُ ، وَمَا قَبَّلْتُهُ قَطُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لا يَرْحَمُ لا يُرْحَمُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے (بچپن میں) ان کے لیے اپنی زبان باہر نکالتے تھے وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کی سرخی کو دیکھتا تو اسے وہ اچھی لگتی تھی۔ عیینہ بن بدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے ساتھ یہ کچھ کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم! میری بھی اولاد ہے، جس کا چہرہ نکل آیا ہے، لیکن میں نے کبھی اس کا بوسہ نہیں لیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔