صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر تقبيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي على سرته- باب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی کی ناف پر بوسہ دیا
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ : " اكْشِفْ لِي عَنْ بَطْنِكَ ، جُعِلْتُ فِدَاكَ ، حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ " ، قَالَ : فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ ، فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ ، وَلَوْ كَانَتْ مِنَ الْعَوْرَةِ مَا كَشَفَهَا .عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں جا رہا تھا ہماری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹائیں اور مجھے اپنے اوپر فدا ہونے کا موقع دیجئے تاکہ میں اس جگہ کا بوسہ لوں جہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
(راوی کہتے ہیں:) اگر ناف پردے میں شامل ہوتی تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اس سے کپڑا نہ ہٹاتے۔