صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر تخفيف الله جل وعلا عن هذه الأمة بعلي بن أبي طالب رضي الله عنه الصدقة بين يدي نجواهم- باب: - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اس امت سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ذریعے نجوٰی سے پہلے صدقہ کے ذریعے تخفیف کی
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً سورة المجادلة آية 12 ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى دِينَارًا ؟ قُلْتُ : لا يُطِيقُونَهُ ، قَالَ : فَكَمْ ؟ قُلْتُ : شَعِيرَةٌ ، قَالَ : إِِنَّكَ لَزَهِيدٌ ، فَنَزَلَتْ أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَات سورة المجادلة آية 13 ٍ الآيَةَ ، قَالَ : " فَبِي خَفَّفَ اللَّهُ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ " .سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” اے ایمان والو! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی چیز نذر پیش کر دیا کرو۔ “ اس سے مراد نذر پیش کرنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: تمہاری کیا رائے ہے یہ نذر ایک دینار ہونی چاہئے؟ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: پھر کتنی ہونی چاہئے؟ میں نے کہا: کچھ جَو ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زیادہ کم کر رہے ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی: ” کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے نذر پیش کرو۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تخفیف کر دی۔