صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم بالشفاء لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه من علته- باب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی بیماری سے شفا کی دعا کی
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدٌ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِِنْ كَانَ أَجْلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي ، وَإِِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي ، وَإِِنْ كَانَ بَلاءً فَصَبِّرْنِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ ، قَالَ : " فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ عَافِهِ ، أَوِ اشْفِهِ " ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، قَالَ : فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَلِكَ بَعْدُ .سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بیمار ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں یہ کہہ رہا تھا۔ ” اے اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو مجھے راحت عطا کر دے اور اگر ابھی موت کا وقت دور ہے تو مجھے (ٹھیک کر کے) کھڑا کر دے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہے تو مجھے صبر عطا کر۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے کیا کہا: ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ کلمات دوہرا دیئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں انہیں مارا اور یہ کہا:۔ ” اے اللہ! اسے عافیت عطا کر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے شفاء عطا کر۔ “ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مجھے کبھی درد کے حوالے سے شکایت نہیں ہوئی۔