صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر قتال علي بن أبي طالب رضي الله عنه على تأويل القرآن كقتال المصطفى صلى الله عليه وسلم على تنزيله- باب: - ذکر کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قرآن کی تاویل پر لڑنا جیسے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزول پر لڑتے تھے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ ، قَالَ : وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهُ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تفسیر کے لیے لڑے گا، جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے کی بنیاد پر لڑائی کی تھی۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میں ہوں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میں ہوں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ وہ جوتے کو گانٹھنے والا ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جوتا دیا تھا تاکہ وہ اسے گانٹھ دیں۔ “