صحیح ابن حبان
كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين— کتاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، مرد و خواتین، کے مناقب کے بیان سے متعلق احکام و مسائل
ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به يزيد بن هارون- باب: - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف یزید بن ہارون نے روایت کی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانَيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ ؟ قَالَ : " فَإِِنْ لَمْ تَجِدِينِي ، فَائْتِ أَبَا بَكْرٍ " .سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے کسی چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ اگر میں پھر آئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو؟ وہ عورت یہ مراد لے رہی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا (تو میں کیا کروں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آ جانا۔