صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن انجلاء أهل المدينة عنها عند وقوع الفتن- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ فتنوں کے وقوع پر مدینہ کے لوگ اس سے نکل جائیں گے
حدیث نمبر: 6772
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ : " لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ ، مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي : السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مدینہ منورہ کو اس کی تمام تر خوبی کے باوجود چھوڑ دیا جائے گا، یہاں تک کہ ایک کتا آئے گا اور مسجد کے کسی ستون کے پاس (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) منبر کے پاس کچھ کھائے گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس زمانے میں پھلوں کو کون استعمال کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درندے (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد پرندے اور درندے ہیں۔ “