صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر الدال على أن علي بن أبي طالب كان في تلك الوقعة على الحق- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس واقعہ میں علی بن ابی طالب حق پر تھے
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَهْلٍ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَاوُدَ الطَّرَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تمہارے درمیان ایسی قوم نمودار ہو گی کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو، ان کے عمل کے سامنے اپنے عمل کو کم تر سمجھو گے وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے، جب تم اس کے پھل کو دیکھو گے تو تمہیں وہاں کوئی (نشان) نظر نہیں آئے گا، جب تم اس کے پچھلے حصے کو دیکھو تو تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا، جب تم اس کے پروں کو دیکھو گے تو تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا البتہ اس کے فوق (نامی حصے) کے بارے میں تمہیں شک ہو گا (کہ یہاں کچھ لگا ہوا ہے) “