صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن على المرء عند ظهور ما وصفنا لزوم نفسه والإقبال على شأنه دون الخوض فيما فيه الناس- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ فتنوں کے ظہور پر آدمی کو اپنی ذات سے لگاؤ رکھنا چاہیے اور اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ لوگوں کے معاملات میں الجھنا
حدیث نمبر: 6730
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو لَوْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ قَالَ : وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ذَاكَ " إِِذَا مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ ، وَصَارُوا هَكَذَا ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " ، قَالَ : فَكَيْفَ بِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكِ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور عیسائی بھی اسی طرح ہوئے اور یہ قوم 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ “