صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما يظهر في الناس من المسابقة في الشهادات والأيمان الكاذبة- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ لوگوں میں جھوٹی گواہیوں اور قسموں کی دوڑ لگے گی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ : " أَحْسِنُوا إِِلَى أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ ، حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ لا يُسْأَلُهَا ، فَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَرْأَةِ ، فَإِِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا پھر اس کے بعد والوں کا ہے (راوی کہتے ہیں:) اللہ بہتر جانتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں کیا (اور پھر فرمایا) پھر وہ لوگ آئیں گے کہ وہ گواہی دیں گے، حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی اور وہ نذر مانیں گے لیکن اسے پورا نہیں کریں گے وہ خیانت کریں گے انہیں امین نہیں بنایا جائے گا اور ان کے درمیان موٹاپا عام ہو گا۔ “