صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما يظهر في آخر الزمان من المنتحلين للعلم والمفتين فيه من غير علم ولا استحقاق له نعوذ بالله من فتنهم- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں علم کے دعوے دار اور بغیر علم و استحقاق کے فتویٰ دینے والے ظاہر ہوں گے، ہم اللہ سے ان کے فتنوں سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 6723
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِِنَّ اللَّهَ لا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ بَعْدَ إِِذْ أَعْطَاهُمُوهُ ، وَلَكِنْ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، فَإِِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ ، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا ، يَسْتَفْتُونَهُمْ فَيُفْتُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے منبر پر یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اس امت کا معاملہ ہمیشہ میانہ روی کے ساتھ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) چلتا رہے گا، جب تک وہ بچوں اور تقدیر کے بارے میں بحث نہیں کریں گے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں بچوں سے مراد مشرکین کے بچے ہیں (یعنی یہ بحث کہ آخرت میں ان کا انجام کیا ہو گا)