صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن خوض الناس في الأغلوطات من المسائل التي أغضي لهم عنها- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ لوگ ان مسائل میں الجھ جائیں گے جن سے انہیں روکا گیا تھا
حدیث نمبر: 6722
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَزَالُونَ يُسْتَفْتُونَ حَتَّى يَقُولَ أَحَدُهُمْ : هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں سے علم کو یوں جدا نہیں کرے گا کہ ان سے علم کو اٹھا لے، جبکہ اس نے ان لوگوں کو علم عطا کیا ہو بلکہ وہ علماء (کی روحوں) کو قبض کرنے کے ذریعے (علم کو اٹھائے گا) یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے وہ ان سے مسائل دریافت کریں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گئے وہ لوگ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے۔ “