صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن تقارب الأسواق وظهور كثرة الكذب عند رفع العلم الذي وصفناه قبل- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ بازاروں کا قریب ہونا اور جھوٹ کی کثرت جب ہمارے بیان کردہ علم اٹھایا جائے گا
حدیث نمبر: 6718
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ لا تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَتَتَقَارَبَ الأَسْوَاقُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قِيلَ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ علم کو یوں قبض نہیں کرے گا کہ لوگوں سے اٹھا لے گا بلکہ وہ علماء کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے ان سے مسائل دریافت کئے جائیں گے تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجود جواب دیں گے وہ لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ “