صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن الفتن التي ذكرناها قصد العرب بتوقعها دون غيرهم- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ فتنوں کا مقصد عربوں کی توقع ہے نہ کہ دوسروں کی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ مِنْ فِتْنَةٍ عَمْيَاءَ صَمَّاءَ بَكْمَاءَ ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، وَيْلٌ لِلسَّاعِي فِيهَا مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اگر تم وہ بات جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم لوگ تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔ نفاق ظاہر ہو جائے گا۔ امانت کو اٹھا لیا جائے گا۔ رحمت کو قبض کر لیا جائے گا۔ امین شخص پر تہمت لگائی جائے گی اور جو شخص امین نہیں ہو گا اسے امین بنایا جائے گا اور شرف جون تم لوگوں کو بٹھا دیں گے۔ انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! شرف جون سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے فتنے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے۔ “