صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن حسر الفرات عن كنز الذهب الذي يقتتل الناس عليه- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ فرات سونے کے خزانے سے خالی ہو جائے گا جس پر لوگ لڑیں گے
حدیث نمبر: 6691
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَحْسُرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ " ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، " إِِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نمودار نہیں ہو گا جس پر لوگ ایک دوسرے سے جنگ کریں گے، تو ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔ “