صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم أوصى إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنه في علته- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو وصیت کی
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِِلَى عَلِيٍّ ، وَلَقَدْ دَعَا بِطَسْتٍ ، فَبَالَ فِيهِ ، وَإِِنَّهُ لَعَلَى صَدْرِي ، فَانْخَنَثَ ، فَمَاتَ ، وَمَا أَشْعُرُ بِهِ " .ابوطفیل بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بطور خاص کوئی چیز عطا کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور خاص کوئی چیز نہیں عطا کی تھی جو دیگر لوگوں کو عمومی طور پر عطا نہ کی ہو، البتہ میری اس تلوار کے میان میں موجود کچھ چیزیں ہیں پھر انہوں نے ایک صحیفہ لکھا ہوا نکالا۔ (جس میں یہ تحریر تھا) ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیراللہ کے نام پر (جانور کو) ذبح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو زمین کی حدود کے نشانات چوری کرتا ہے۔ (یعنی انہیں بگاڑ دیتا ہے) اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے ماں باپ پر لعنت کرے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) من الارض سے مراد دو آدمیوں کی زمین کے درمیان موجود علامت ہے یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔