صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر اغتسال المصطفى صلى الله عليه وسلم من الماء الذي لم يمس بعد أن أوكي في علته التي قبض فيها صلى الله عليه وسلم- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی سے غسل کیا جو اس بیماری میں استعمال نہیں ہوا تھا جس میں وہ وفات پا گئے صلی اللہ علیہ وسلم
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ : " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِِلَى النَّاسِ " ، قَالَتْ : فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ ، فَمَا زِلْنَا نَصُبُ عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں آپ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کے ذریعے پانی بہاؤ جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں تاکہ مجھے کچھ سکون آئے اور میں لوگوں کو ہدایت کر سکوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے بنے ہوئے ٹب میں بٹھایا۔ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں اشارہ کرنا شروع کیا کہ تم نے ایسا کر لیا ہے پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔