صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن قول عقبة بن عامر صلى على قتلى أحد أراد به أنه دعا واستغفر لهم لا أنه صلى عليهم كما يصلي على الموتى- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ عقبہ بن عامر کے قول "احد کے مقتولین پر دعا کی" سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ان کے لیے دعا اور استغفار کیا، نہ کہ ان پر اس طرح نماز پڑھی جیسے مردوں پر پڑھی جاتی ہے
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَوْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ ، فَأَعْهَدَ إِِلَى النَّاسِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت قریب آیا تو گھر میں کچھ لوگ موجود تھے جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دیتا ہوں تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا رنگ غالب ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے، تو گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا وہ آپس میں اس بارے میں بحث کرنے لگے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ان کی آوازیں اور گفتگو زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اٹھ جاؤ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے، مصیبت سی مصیبت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تحریر لکھنے کے درمیان لوگوں کا اختلاف اور ان کا شور شرابا رکاوٹ بن گیا۔