صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر العلة التي من أجلها استثنى عمه صلى الله عليه وسلم بالأمر باللدود الذي وصفناه- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر ان کے چچا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ لدود کے حکم کو استثناء کیا
حدیث نمبر: 6589
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا : " لا تَلُدُّونِي " ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِيَ ؟ " ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ ، فَقَالَ : " لا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِِلا لُدَّ " ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِِلَى الْعَبَّاسِ ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْهُمْ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے اور اپنا دست مبارک پھیرا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں نے معوذات پڑھ کر آپ پر دم کرنا شروع کیا جنہیں پڑھ کر آپ اپنے اوپر دم کرتے تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک آپ کے جسم پر پھیرتی رہی۔