حدیث نمبر: 6582
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : يَا لِلأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لِلْمُهَاجِرِينَ ، قَالَ : فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا ، فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ : قَدْ فَعَلُوهَا ، لَئِنْ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : " دَعْهُ ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، يُرِيدُ : أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ : فَإِِنَّهَا ذَمِيمَةٌ وَمَا أَشْبَهَهَا .

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے۔ حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن اور ایک رات تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی کیفیت رہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے رہے پھر دعا مانگتے رہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کا جواب دیدیا ہے۔ جس کے بارے میں، میں نے اس سے دریافت کیا تھا۔ میرے پاس دو آدمی (یعنی دو فرشتے) آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا، جو میرے پاؤں کے قریب بیٹھا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے۔ اس نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے دریافت کیا۔ ان پر کس نے جادو کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں، پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: ذی زروان کے کنویں میں ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ اس کنویں کے پاس آئے جب آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اسے جلوا کیوں نہیں دیا، یا نکلوا کیوں نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کے حوالے سے لوگوں میں کوئی خرابی پیدا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6582
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3155): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6548»