صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف غسل الدم عن وجه المصطفى صلى الله عليه وسلم حين شج- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون دھویا گیا جب وہ زخمی ہوئے
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ : بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي شَنَّةٍ ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ ، فَأُحْرِقَ ، فَدُووِيَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .ابوحازم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے تھے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر لگا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ڈھال کے ذریعے اس پر پانی بہا رہے تھے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے کے نتیجے میں خون زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے جلایا، یہاں تک کہ جب وہ راکھ بن گئی تو انہوں نے وہ راکھ اس زخم پر لگا دی تو خون رک گیا۔