صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر احتمال المصطفى صلى الله عليه وسلم الشدائد في إظهار ما أمر الله جل وعلا- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل وعلا کے حکم کے ظہور میں سخت مشکلات برداشت کیں
حدیث نمبر: 6577
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ أَنْتَ إِِلا أُصْبُعٌ دَمِيتَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتَ " .ابوحازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر کس چیز کے ذریعے دوا لگائی گئی تھی تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکیزے میں پانی لے کر آئے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں پھر چٹائی لی گئی اسے جلایا گیا تو اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر) لگا دیا گیا۔