صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر سؤال المشركين رسول الله صلى الله عليه وسلم طرد الفقراء عنه- باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غریبوں کو اپنے سے دور کرنے کا مطالبہ کیا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : اطْرُدْ هَؤُلاءِ عَنْكَ ، فَإِِنَّهُمْ وَإِِنَّهُمْ ، وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَبِلالٌ ، وَرَجُلانِ نَسِيتُ أَحَدُهُمَا ، قَالَ : " فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 إِِلَى قَوْلِهِ : الظَّالِمِينَ سورة البقرة آية 35 " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت زخمی ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہے حالانکہ وہ ان کو ان کے پروردگار کی طرف دعوت دیتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی: ” تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے، بے شک یہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔ “