صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان -
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، سَلِينِي مَا شِئْتِ ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " .سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے یہ بات بیان کی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قریش اللہ تعالیٰ سے اپنی جانیں خرید لو میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے بنو عبدالمطلب میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ! تم جو چاہو مجھ سے مانگ لو لیکن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔