صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب المعجزات - ذكر إسماع الله جل وعلا أهل القليب من بدر كلام صفيه صلى الله عليه وسلم وخطابه إياه- باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے بدر کے قليب والوں کو اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام اور خطاب سنوایا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نِدَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ وَهُوَ عَلَى بِئْرِ بَدْرٍ يُنَادِي : " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، أَلا هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، إِِلا أَنَّهُمْ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُونِي " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نصف رات کے وقت مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار سنی۔ آپ اس وقت بدر کے کنویں کے پاس موجود تھے اور بلند آواز میں فرما رہے تھے۔ اے ابوجہل بن ہشام اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ، اے امیہ بن خلف تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے۔ مسلمانوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ ایسی قوم کو مخاطب کر رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جو کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے، البتہ وہ لوگ اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ مجھے جواب دیں۔