صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب المعجزات - ذكر ما كان يدفع الله جل وعلا عن صفيه صلى الله عليه وسلم مكيدة المشركين إياه من الشتم واللعن وما أشبههما- باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی گالیوں، لعنتوں اور اس جیسے مکر سے بچایا
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عنِ ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عِبَادَ اللَّهِ ، انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَهُمْ وَلَعَنَهُمْ " ، يَعْنِي : قُرَيْشًا ، قَالُوا : كَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا ، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اے اللہ کے بندو! تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے برا کہنے اور لعنت کرنے کو مجھ سے کیسے پھیر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد قریش تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ایسا کیسے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ لوگ مذمم کو برا کہتے ہیں۔ مذمم پر لعنت کرتے ہیں (یعنی کفار قریش دشمنی کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد کی بجائے مذمم کہتے تھے تو وہ لعنت اور برا بھلا مذمم پر واقع ہوتا تھا) میں تو محمد ہوں۔ “