صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم وأمته يكونون شهداء على سائر الأمم في القيامة- باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت قیامت کے دن دیگر امتوں پر گواہ ہوں گے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : هَلْ بَلَّغْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ لأُمَّتِهِ : هَلْ بَلَّغَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ ، فَيُقَالُ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمَّتُهُ " ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَ ، وَيَكُونُ الرَّسُولُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143 " ، وَالْوَسَطُ : الْعَدْلُ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” قیامت کے دن سیدنا نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا تو وہ عرض کریں گے اے میرے پروردگار میں حاضر ہوں۔ پروردگار دریافت کرے گا۔ کیا تم نے تبلیغ کر دی تھی۔ وہ جواب دیں گے۔ جی ہاں اے میرے پروردگار، تو پروردگار ان کی امت سے دریافت کرے گا۔ کیا اس نے تم لوگوں کو تبلیغ کر دی تھی، تو لوگ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تو پروردگار (سیدنا نوح علیہ السلام سے) دریافت کرے گا تمہارے حق میں گواہی کون دے گا۔ سیدنا نوح علیہ السلام عرض کریں گے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو (میری امت کے افراد) یہ گواہی دیں گے کہ سیدنا نوح علیہ السلام نے تبلیغ کر دی تھی۔ اور رسول (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں پر گواہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ ” اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ اور رسول تم لوگوں پر گواہ ہو۔ “ لفظ وسط سے مراد عادل ہے۔