صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب الحوض والشفاعة - ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم الكوثر الذي خصه الله جل وعلا بإعطائه إياه في الجنة- باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وصف کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوثر کی جو اللہ جل وعلا نے انہیں جنت میں عطا کیا
حدیث نمبر: 6472
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَّتَاهُ مِنَ اللُّؤْلُؤِ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي مَجْرَى الْمَاءِ ، فَإِِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ ، أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک نہر موجود تھی۔ جس کے کناروں پر موتی تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ پانی کے بہاؤ پر مارا تو اس کی خوشبو مشک کی طرح تھی۔ میں نے کہا: اے جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے۔ “