صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب الحوض والشفاعة - ذكر الخبر المدحض قول من أبطل شفاعة المصطفى صلى الله عليه وسلم لأمته في القيامة زعم أن الشفاعة هو استغفاره لأمته في الدنيا- باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ جس نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قیامت میں شفاعت کو باطل کیا اور یہ زعم کیا کہ شفاعت دنیا میں ان کی امت کے لیے استغفار ہے
حدیث نمبر: 6469
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو وہ اپنی امت کے لیے کرتا ہے۔ میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھ لیا ہے۔ “