صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لأَهْلِ الْيَمَنِ ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ " ، فَسُئِلَ عَنْ عَرَضِهِ فَقَالَ : " مِنْ مَقَامِي هَذَا إِِلَى عَمَّانَ " ، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، فِيهِ مِيزَابَانِ يُمَدَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَالآخَرُ مِنْ وَرِقٍ " ، قَالَ بُنْدَارٌ : فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ ؟ فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ أَيْضًا ، فَقُلْتُ : انْظُرْ لِي فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، فَنَظَرَ فِيهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ .سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں اپنے حوض کے قریب کھڑے ہو کر اس سے (کچھ) اہل یمن کو پرے کروں گا۔ میں اپنے عصا کے ذریعے انہیں ماروں گا تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کی چوڑائی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے کھڑے ہونے کی جگہ سے لے کر عمان تک (جتنا فاصلہ ہے وہ اتنا چوڑا ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا۔ اس حوض میں دو پرنالے ہوں گے جو جنت سے آ رہے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا اور ایک چاندی کا بنا ہو گا۔ “ بندار نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یحیی بن حماد سے کہا: کیا یہ ابوعوانہ کی نقل کردہ روایت ہے، تو انہوں نے بتایا میں نے یہ روایت ابوعوانہ سے ہی سنی ہے۔ میں نے کہا: آپ میرے لیے شعبہ کی نقل کردہ روایت کا جائزہ لے لیجئے۔ انہوں نے اس میں اس روایت کو تلاش کیا اور پھر یہ حدیث بیان کی۔