صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل- باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6453
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمَسَافَةُ بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ ، كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ ، وَمَكَّةَ وَأَيْلَةَ ، وَصَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ ، وَصَنْعَاءَ وَبُصْرَى سَوَاءً ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌّ ، أَوْ تَهَاتِرٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تمہارے آگے (قیامت میں) ایک ایسا حوض ہو گا جو جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلے جتنا بڑا ہو گا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جرباء اور اذرح کے درمیان کتنا فاصلہ ہے جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان یا مکہ اور ایلہ کے درمیان یا صنعاء اور مدینہ کے درمیان یا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان ہے، تو اس حوالے سے ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا۔