حدیث نمبر: 6399
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَنَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ فَأَعْطَانِيهَا : كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِِلَى قَرْيَتِهِ وَلا يَعْدُوهَا وَبُعِثْتُ كَافَّةً إِِلَى النَّاسِ ، وَأُرْهِبَ مِنَّا عَدُوُّنَا مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسَاجِدَ ، وَأُحِلَّ لَنَا الْخُمُسُ وَلَمْ يَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَحِّدُهُ إِِلا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، فَأَعْطَانِيهَا " .

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھے چار ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو بھی نہیں عطا کی گئیں۔ میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز کی درخواست کی، تو اس نے مجھے وہ بھی عطا کر دی، پہلے کسی نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ اس بستی سے آگے نہیں جاتا تھا، لیکن مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا اور ہمارا دشمن ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے سے بھی ہم سے مرعوب ہو جاتا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا اور ہمارے لئے خمس کو حلال قرار دیا گیا ہے، جو ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا تھا اور میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز یہ مانگی، میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ میری اُمت کا جو فرد اس کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز بھی مجھے عطا کر دی۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6399
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره. * [عُبَيْدِ اللَّهِ] قال الشيخ: كذا الأصل، وفي «الموارد» (2125): (عبيد الله) بتصغير: (عبيد)، وكذا في «التقاسيم»؛ كما نقلَه المُعَلِّقُ على «إحسان المؤسسة» (14/ 309)، وفسَّره بقوله: «عبيد الله بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن موهب، روى له البخاري في «الأدب المفرد» ... »، ثم ذكر الخلاف في توثيقه وتضعيفه، وأنَّ ابن حبان ذكره في «الثقات» ... وأقول: عبيدُ الله بن عبد الرحمن بن عبد الله بن موهب: هو القرشي التيمي المدني، هكذا ساقه في «التهذيب»، وقال: «ويقال: عبد الله بن عبد الرحمن». ويرى القارئ أنَّ جدَّ راوي الحديث: هو مَوهب، وجدّ المترجم في «التهذيب» عبد الله بن موهب، ولم يتبين لي المراد هنا! وكلاهما من أتباع التابعين، ولعلَّ الراجحَ ما هنا؛ لأنَّهُ الَّذي ترجمَ له مُؤلِّف الأصل - ابن حبان (7/ 19) - بخلاف عبيد الله بن عبد الرحمن؛ فَإِنَّهُ لم يُترجم له؛ خلافاً لما ذَكَرَ المعلِّقُ المشار إليه آنفا. وترجم له - أيضاً - في «الميزان»، ونقلَ عَنِ ابن مَعينٍ تَضْعِيفَه، وزاد عليه في «اللسان»؛ فذكر توثيق المؤلف له. والحديث له شواهد كثيرة، خرَّجت الكثيرَ منها في «الإرواء» (1/ 315 - 317)، وترى بعضَها في هذا الباب، وفيما بعد. وأما الخامسة؛ فشواهدُها كثيرةٌ معروفةٌ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6365»