صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر الخصال التي فضل صلى الله عليه وسلم بها على غيره- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وہ خصائل جن سے صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں پر فضیلت دی گئی
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَنَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ فَأَعْطَانِيهَا : كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِِلَى قَرْيَتِهِ وَلا يَعْدُوهَا وَبُعِثْتُ كَافَّةً إِِلَى النَّاسِ ، وَأُرْهِبَ مِنَّا عَدُوُّنَا مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسَاجِدَ ، وَأُحِلَّ لَنَا الْخُمُسُ وَلَمْ يَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا ، وَسَأَلْتُ رَبِّي الْخَامِسَةَ ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي يُوَحِّدُهُ إِِلا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، فَأَعْطَانِيهَا " .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھے چار ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو بھی نہیں عطا کی گئیں۔ میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز کی درخواست کی، تو اس نے مجھے وہ بھی عطا کر دی، پہلے کسی نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ اس بستی سے آگے نہیں جاتا تھا، لیکن مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا اور ہمارا دشمن ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے سے بھی ہم سے مرعوب ہو جاتا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا اور ہمارے لئے خمس کو حلال قرار دیا گیا ہے، جو ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا تھا اور میں نے اپنے پروردگار سے پانچویں چیز یہ مانگی، میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ میری اُمت کا جو فرد اس کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز بھی مجھے عطا کر دی۔