صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر الخصال التي فضل صلى الله عليه وسلم بها على غيره- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وہ خصائل جن سے صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں پر فضیلت دی گئی
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ فَلْيُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ، وَبُعِثْتُ إِِلَى النَّاسِ عَامَّةً " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ایک مہینے کے فاصلے سے (طاری ہونے والے) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ میرے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔ میری اُمت کے جس بھی فرد کو نماز کا وقت ہو جائے وہ (وہیں) نماز ادا کر لے۔ میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا۔ جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال قرار نہیں دیا گیا تھا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور ہر نبی کو اپنی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔