صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما خص الله جل وعلا به صفيه صلى الله عليه وسلم وفرق بينه وبين أمته بأن قلبه كان لا ينام إذا نامت عيناه- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے ممتاز کیا کہ ان کا دل نہیں سوتا تھا جب ان کی آنکھیں سوتی تھیں
حدیث نمبر: 6385
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِعْظَامًا لِلْوِتْرِ ، تَنَامُ عَنِ الْوِتْرِ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ! إِِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلا يَنَامُ قَلْبِي " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا آپ وتر ادا کئے بغیر سونے لگے ہیں؟ میں نے وتر کی اہمیت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میری آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ہے۔