صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن أصحاب الحديث يصححون من الأخبار ما لا يعقلون معناها- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ اہل حدیث ایسی خبروں کو صحیح مانتے ہیں جن کے معنی وہ نہیں سمجھتے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقُولُ : تَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ سورة الأحزاب آية 51 ، قَالَتْ : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِِلا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے ان خواتین پر بڑا غصہ آتا تھا جو خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے لیے پیش کر دیتی تھی میں یہ سوچا کرتی تھی کیا کوئی عورت بھی اپنے ساتھ شادی کی پیشکش کر سکتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ» (الأحزاب: 51) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے دیکھا ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی کرتا ہے۔