صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر وصف مفاتيح خزائن الأرض حيث أتي صلى الله عليه وسلم في نومه- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وصف کہ زمین کے خزانوں کی چابیاں جب صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دی گئیں
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَلَسَ جِبْرِيلُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ ، فَإِِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : هَذَا الْمَلَكُ مَا نَزَلَ مُنْذُ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرْسَلَنِي إِِلَيْكَ رَبُّكَ : أَمَلَكًا جَعَلَكَ لَهُمْ أَمْ عَبْدًا رَسُولا ؟ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا ، بَلْ عَبْدًا رَسُولا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا جس سے ایک فرشتہ نازل ہوا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی بھی نازل نہیں ہوا، تو وہ نیچے آ گیا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پروردگار نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بنا دے یا بندے اور رسول رہنا چاہتے ہیں؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تواضع اختیار کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ میں بندہ اور رسول رہنا چاہتا ہوں۔