حدیث نمبر: 6353
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا سِتْرًا ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا ، قَالَ : وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِِلا بَدَأَ بِهَا ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَرَآهَا مُهْتَمَّةً ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَتْ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا وَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنَا وَالدُّنْيَا ، وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ " ، فَذَهَبَ إِِلَى فَاطِمَةَ ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " قُلْ لَهَا : فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِِلَى بَنِي فُلانٍ " .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے آپ نے ان کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا تو گھر کے اندر تشریف نہیں لائے۔ آپ جب بھی گھر میں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے تھے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر آئے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا تو دریافت کیا: کیا ہوا؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، لیکن آپ گھر کے اندر نہیں آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فاطمہ اس بات پر پریشان ہیں کہ آپ ان کے ہاں آئے لیکن گھر کے اندر تشریف نہیں لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا اور دنیا کا کیا واسطہ میرا اور نقش و نگار کا کیا واسطہ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیجئے کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کہو کہ اس (پردے کو) بنو فلاں کو بھجوا دے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6353
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3140)، خ مختصراً*. * [خ مختصراً] قال الشيخ: وعزاه المُعلِّقُ على الكتاب (13/ 266 - 267/ 6353) للبخاري وغيره، دون أنْ يُنَبِّه أَنَّهُ ليس عنده البدء بفاطمة، وأنَّها كانت مهتمة! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6319»