حدیث نمبر: 6352
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَرَ فِي جَنْبِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : " يَا عُمَرُ ، مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ، وَمَا لِلدُّنْيَا وَلِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِِلا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرْكَهَا " .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس کا نشان آپ کے پہلو پر لگ چکا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر آپ اس سے زیادہ نرم بچھونا استعمال کرتے (تو یہ مناسب ہوتا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا واسطہ اور دنیا کا مجھ سے کیا واسطہ؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میری اور دنیا کی مثال یوں ہے جیسے کوئی سوار شخص تیز گرم دن میں سفر کرتے ہوئے گھڑی بھر کے لئے کسی درخت کے سائے میں آئے اور پھر وہ اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6352
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (439). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6318»