صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما عرف الله جل وعلا عن صفيه صلى الله عليه وسلم أسباب هذه الفانية الزائلة عند ابتداء إظهار الرسالة- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے ظہور کے آغاز پر اس فانی دنیا کے اسباب سے آگاہ کیا
حدیث نمبر: 6340
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلأُ بِهِ بَطْنَهُ " .سیدنا نعمان بن بشیر فرماتے ہیں: کیا تم لوگ آج طرح طرح کے کھانے اور مشروبات نہیں پیتے؟ جیسے تم چاہتے ہو، حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کو ہلکی قسم کی کھجوریں اتنی بھی نہیں ملتی تھیں کہ آپ ان کے ذریعے اپنا پیٹ بھر لیں۔