حدیث نمبر: 6336
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصَّبيانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ قَلْبَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : " هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، فَجَاءَهُ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ ، يَعْنِي : ظِئْرَهُ ، فَقَالَ : إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی بات ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا آپ کو لٹایا۔ آپ کے قلب مبارک کو چیر دیا۔ اس میں سے کوئی لوتھرا نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نے سونے کے بنے ہوئے طشت میں آب زم زم کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو دھویا اور پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ یعنی دائی ماں کے پاس آئے اور بولے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کے چہرے کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں اس سینے کا نشان میں نے دیکھا ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6336
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى قريباً (6300). تنبيه!! رقم (6300) = (6334) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6302»