صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر شق جبريل عليه السلام صدر المصطفى صلى الله عليه وسلم في صباه- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ جبریل علیہ السلام نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن میں ان کا سینہ چاک کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ قَلْبَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : " هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لأَمَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ " ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ ، يَعْنِي : ظِئْرَهُ ، فَقَالُوا : إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : قَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شُقَّ صَدْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَبِيٌّ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، وَأُخْرِجَ مِنْهُ الْعَلَقَةُ ، وَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الإِِسْرَاءَ بِهِ ، أَمَرَ جِبْرِيلَ بِشَقِّ صَدْرِهِ ثَانِيًا ، وَأَخْرَجَ قَلْبَهُ فَغَسَلَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ مَكَانَهُ مَرَّتَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ ، وَهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ (یعنی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا واقعہ ہے) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو چیرا اور اس میں سے جما ہوا خون نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک سونے سے بنے ہوئے طشت میں رکھ کر آب زم زم کے ذریعے دھویا پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی دائی اماں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا، وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں سیے جانے کا نشان دیکھا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کو شق کرنے کا واقعہ (پہلی مرتبہ) اس وقت ہوا جب آپ بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو آپ کے اندر سے جما ہوا خون نکالا گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے جانے کا ارادہ کیا تو اس نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا انہوں نے دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو نکال کر دوبارہ اسے دھویا اور پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا، تو ایسا دو مرتبہ ہوا اور دو مختلف موقعوں پر ہوا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔