صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر الإخبار عما أرى الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم موضع هجرته في منامه- باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں ہجرت کا مقام دکھایا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ ، فَذَهَبَ وَهْلِي إِِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ ، وَهَجَرُ ، فَإِِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَهَزَزْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ " .سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ہجرت کر کے ایسی سرزمین کی طرف جا رہا ہوں۔ وہاں کھجوروں کے باغات ہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا یہ یمامہ یا ہجر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ مدینہ یعنی یثرب تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار لہرائی تو وہ ٹوٹ گئی۔ اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پر لاحق ہونے والا نقصان ہے، پھر میں نے اسے دوسری مرتبہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی حالت میں آ گئی۔ اس کے ذریعے وہ فتح اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد میں اضافہ) مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا۔