صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن بني إسرائيل كانت تسوسهم الأنبياء- باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ بَنِي إِِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ ، كُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ ، قَامَ نَبِيٌّ ، وَإِِنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " ، قَالُوا : فَمَا يَكُونُ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " أُمَرَاءُ وَيَكْثُرُونَ " ، قَالُوا : مَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْفُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ ، وَأَدُّوا إِِلَيْهِمُ الَّذِي لَهُمْ ، فَإِِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَنِ الَّذِي لَكُمْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بنی اسرائیل کی رہنمائی انبیاء کیا کرتے تھے۔ ان میں سے جب بھی کسی نبی کا انتقال ہوتا دوسرا نبی آ جاتا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا آپ کے بعد کیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکمران ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی بیعت پوری کرنا جس سے پہلے بیعت لی گئی ہو اور تم ان کے حقوق کو ادا کر دینا اللہ تعالیٰ ان سے تمہارے حقوق کے بارے میں سوال کرے گا (یعنی حساب لے گا)