صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الأنبياء كان لهم حواريون يهدون بهديهم بعدهم- باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ انبیاء کے حواری ہوتے تھے جو ان کے بعد ان کی ہدایت پر چلتے تھے
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الأَعْيُنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِِلا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يُهْدُونَ بِهَدْيِهِ ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُنْكِرُونَ ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں جو اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اس کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں پھر اس کے بعد کچھ لوگ آ جاتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں پر وہ عمل نہں کرتے اور اسے کام کرتے ہیں، جنہیں وہ خود گناہ قرار دیتے ہیں، تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو شخص اپنے دل کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا اور پھر اس کے بعد رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔ “