صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن وصف قدر طول الدنيا ومدتها في جنب بقاء الآخرة وامتدادها- باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ دنیا کی لمبائی اور مدت آخرت کے بقا اور اس کے پھیلاؤ کے مقابلے میں کس قدر ہے
حدیث نمبر: 6159
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِِلا كَمَا يَضَعُ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ؟ " .مستورد جن کا تعلق بنو فہر سے ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال اس طرح ہے جس طرح کوئی شخص اپنی شہادت کی انگلی کو سمندر میں داخل کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ کس چیز (یعنی کتنے پانی) کے ہمراہ واپس آئی ہے۔ “