صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن خلق الله جل وعلا عدد الرحمة التي يرحم بها عباده يوم القيامة- باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے رحمت کی تعداد بنائی جس سے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، فَجَعَلَ فِي الأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً ، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا ، وَالْوَحْشُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَإِِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ مِائَةً " .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن اس نے ایک سو رحمتیں پیدا کیں جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہیں، تو ان میں سے ایک رحمت اس نے زمین میں رکھی ہے اس رحمت کی وجہ سے ماں اپنی اولاد پر مہربانی کرتی ہے اور وحشی جانور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں جب کہ 99 رحمتیں اس نے قیامت کے دن تک کے لیے مخصوص کی ہیں جب قیامت کا دن آئے گا، تو وہ اس رحمت کے ذریعے ایک سو کو مکمل کرے گا۔ “