صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما كان عليه العرش قبل خلق الله جل وعلا السماوات والأرض- باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کے عرش کا حال آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے کیا تھا
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، كَتَبَ فِي كِتَابِهِ يَكْتُبُهُ عَلَى نَفْسِهِ ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ : أَنَّ رَحْمَتِيَ تَغْلِبُ غَضْبَى " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ " مِنْ أَلْفَاظِ الأَضْدَادِ الَّتِي تَسْتَعْمِلَ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا ، يُرِيدُ بِهِ تَحْتَ الْعَرْشِ ، لا فَوْقَهُ ، كَقَوْلِهِ جَلا وَعَلا : وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ سورة الكهف آية 79 يُرِيدُ بِهِ : أَمَامَهُمْ ، إِِذْ لَوْ كَانَ وَرَاءَهُمْ لَكَانُوا قَدْ جَاوَزُوهُ ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا سورة البقرة آية 26 أَرَادَ بِهِ : فَمَا دُونَهَا .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں تحریر کیا جو چیز اس نے اپنی ذات پر لازم کی ہے اور وہ تحریر عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے (اس میں یہ تحریر ہے) ” بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” وہ عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے “ یہ ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جو عرب اپنے محاور ے میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد عرش کے نیچے ہے عرش کے اوپر مراد نہیں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ” ان کے پیچھے ایک بادشاہ ہے “ اس سے مراد یہ ہے ان کے آگے ایک بادشاہ ہے اگر وہ پیچھے ہوتا تو وہ لوگ وہاں سے گزر آئے تھے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں کرتا کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یا جو اس سے اوپر ہے (اس کی مثال بیان کرے) “ اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز مچھر سے بھی نیچے ہو۔