صحیح ابن حبان
كتاب التاريخ— کتاب: تاریخ کے احکام و مسائل
باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما عاتب الله جل وعلا من خالف رسول الله صلى الله عليه وسلم في إثبات القدر- باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اس سے عتاب کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کے ثبوت میں مخالفت کرتا ہے
حدیث نمبر: 6139
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِفُونَهُ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ سورة القمر آية 47 - 49 " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریش کے مشرکین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرتے تھے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ” بے شک مجرم لوگ گمراہی اور جہنم میں ہوں گے، جس دن انہیں منہ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا (اور یہ کہا: جائے گا) جہنم کا مزہ چکھ لو، بیشک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق بنایا ہے۔ “