صحیح ابن حبان
كتاب النجوم والأنواء— کتاب: ستاروں اور بارش کی نسبت کے احکام و مسائل
ذكر التغليظ على من قال بالاختيارات والأحكام بالتنجيم- باب: - ذکر شدت کہ جو تنجیم کے انتخاب اور احکام کہتا ہے
حدیث نمبر: 6130
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَتَّابُ بْنُ حُنَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ لأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمِجْدَحُ : هُوَ الدَّبَرَانِ ، وَهُوَ الْمَنْزِلُ الرَّابِعُ مِنْ مَنَازِلِ الْقَمَرِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ علیہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روک لے اور پھر اسے برسا دے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ انکار کرتے ہوئے پھر بھی یہی کہے گا کہ مجدح ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مجدح سے مراد ” دبران “ ہے اور یہ چاند کی منزلوں میں چوتھی منزل پر ہوتا ہے۔